اسلام آباد(ویب ڈیسک) بلوچستان میں گوادر سے تعلق رکھنے والی نو خواتین کو انتہائی مطلوب قرار دیتے ہوئے ان کی گرفتاری میں مدد دینے والوں کے لیے انعام مقرر کیا گیا ہے۔ اس سے پہلے مطلوب افراد کی فہرستیں اخبارات میں بھی شائع کی جاتی تھیں لیکن اس بار یہ سوشل میڈیا پر حکومت کے حامی مگر غیر سرکاری اکاؤنٹس پر جاری ہوئی ہے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے اشتہار میں ان خواتین کی تصاویر اور دیگر تفصیلات جاری کی گئی ہیں۔ محکمہ داخلہ بلوچستان کے میڈیا معاون بابر یوسفزئی نے اس اشتہار کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ’یہ اقدام سرکاری طور پر اٹھایا گیا ان خواتین کے بارے میں خدشہ ہے کہ انہیں کالعدم تنظیمیں استعمال کر سکتی ہیں اسی لیے ان سے متعلق معلومات دینے پر 10 سے 15 لاکھ روپے تک انعام مقرر کیا گیا ہے۔ اشتہار میں شہریوں سے کہا گیا ہے کہ ’بلوچستان میں بدامنی پھیلانے والے مطلوب دہشت گردوں اور ان کے ہاتھوں استعمال ہونے والی خواتین ڈھونڈنے میں ہماری مدد کریں۔اشتہار میں اطلاع دینے والوں کو نقد انعام دینے کے علاوہ ان کی شناخت خفیہ رکھنے کی یقین دہانی بھی کرائی گئی ہے۔ اس مقصد کے لیے کمانڈ سینٹر مکران مددگار کا نمبر 1244 بھی جاری کیا گیا ہے۔
مکران میں تعینات پولیس کے ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’یہ خواتین اپنے گھروں سے لاپتہ ہیں ان میں کئی کم عمر ہیں اور خدشہ ہے کہ انہیں کالعدم تنظیم نے خودکش حملوں سمیت شدت پسند کارروائیوں میں استعمال کرنے کے لیے تیار کیا ہے اس لیے سکیورٹی فورسز انہیں تلاش کر رہی ہیں۔اشتہار میں شامل خواتین کی تصاویر کے ساتھ ان کے نام، ولدیت اور پتے بھی درج ہیں۔ گوادر کے علاقے سربندر کی رہائشی عزیزاں دختر ابراہیم کے سر کی قیمت 15 لاکھ روپے مقرر کی گئی ہے جبکہ باقی آٹھ خواتین کے سروں کی قیمت 10، 10 لاکھ روپے رکھی گئی ہے۔
ان میں حنیفاں دختر شیر محمد، عائشہ دختر عبدالرشید، رقیہ دختر ولید، اقرا دختر علی مولا، آمنہ ہانی دختر عبدالرشید، حفصہ دختر اقبال، زہرہ دختر ملک محمد اور زرمن دختر واحد بخش شامل ہیں۔ ان کا تعلق ضلع گوادر کے مختلف علاقوں، سربندر، نیا آباد، کلانچی پاڑا، جیوانی اور شادی کور پسنی سے بتایا گیا ہے۔بابر یوسفزئی کے مطابق ’مطلوب خواتین کی گرفتاری میں مدد دینے والے شہریوں کو قواعد و ضوابط کے مطابق 10 سے 15 لاکھ روپے تک نقد انعام دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’شہری ان خواتین اور ان کے مبینہ سہولت کاروں سے متعلق معلومات قانون نافذ کرنے والے اداروں کو فراہم کریں۔ صوبے میں اس سے پہلے بھی کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے مطلوب افراد کے سروں کی قیمتیں مقرر کی جاتی رہی ہیں تاہم یہ پہلا موقع ہے کہ خواتین کو باقاعدہ طور پر انتہائی مطلوب دہشت گرد قرار دیتے ہوئے ان کے سروں کی قیمت مقرر کی گئی ہو۔ہے۔ خیال رہے کہ رواں سال فروری میں بلوچستان حکومت نے 39 افراد کو انتہائی مطلوب دہشت گرد قرار دیتے ہوئے ان کے نام، تصاویر اور سروں کی قیمتیں شائع کی تھیں۔ان میں سب سے زیادہ 25، 25 کروڑ روپے کا انعام کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے )کے سربراہ بشیر زیب اور تنظیم کے خودکش سکواڈ ’مجید بریگیڈ‘ کے کمانڈر رحمان گل عرف استاد مرید کے سر کی قیمت مقرر کی گئی تھی۔ اسی طرح محکمہ داخلہ بلوچستان مارچ 2016 میں بھی 99 افراد پر مشتمل ایسی ہی ایک فہرست جاری کر چکا ہے۔
سکیورٹی فورسز اور حکومت کا یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گوادر سے رکن بلوچستان اسمبلی اور جماعت اسلامی کے صوبائی امیر مولانا ہدایت الرحمان نے گوادر میں سکیورٹی چوکیوں پر خواتین کی تصویر کشی کے خلاف احتجاج کیا تھا جس کے بعد ان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا۔
بلوچستان کی نو خواتین دہشت گردوں کی فہرست میں شامل، سروں کی قیمت مقرر

Leave a Reply