اسلام آباد: بلوچستان میں خواتین کو بی ایل اے اور اس کے پراکسی گروہ بی وائی سی کے ہاتھوں منظم استحصال کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق یہ گروہ خواتین کو نہ صرف دہشت گردی کے لیے استعمال کرتے ہیں بلکہ انہیں تشدد اور جنسی استحصال کا آلہ بھی بناتے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بی وائی سی اور بی ایل اے خواتین کو دہشت گرد کیمپوں میں کوئی مستقبل فراہم نہیں کرتے۔ انہیں بااختیار بنانے کے جھوٹے نعرے کے تحت ورغلا کر تشدد کا آلہ بنایا جاتا ہے۔ جب کسی خاتون کو خودکش بمبار بنایا جاتا ہے تو یہ اس کا نظریاتی فیصلہ نہیں بلکہ زبردستی اور جبر کا نتیجہ ہوتا ہے۔ ریاست اس ظلم کا شکار ہونے والی ہر بیٹی کے لیے سوگوار ہے۔
رپورٹ کے مطابق بلوچستان بھر میں کئی خاندان اپنی بیٹیوں کی گمشدگی کا شکار ہیں۔ بعد میں یہ لڑکیاں بی ایل اے کے دہشت گرد کیمپوں میں پائی جاتی ہیں۔ یہ کھلا اغوا اور نظریاتی لبادے میں لپٹا ہوا استحصال ہے۔ ہر لاپتہ شخص کے پیچھے ایک تباہ شدہ خاندان ہوتا ہے، جہاں باپ بے خوابی کا شکار، بہن بھائی بے چینی میں پروان چڑھتے اور مائیں اپنی بیٹیوں کے کمروں کو برسوں ویسے ہی چھوڑ دیتی ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ بی ایل اے کے دہشت گرد کیمپ خواتین کے خلاف منظم جنسی استحصال کے مراکز بن چکے ہیں۔ جنسی تشدد کو کنٹرول، سزا اور خاموشی کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، جسے سیاسی بیانیے کے پردے میں پیش کیا جاتا ہے۔ متاثرہ مائیں جو پریس کانفرنسوں میں آ کر گواہی دیتی ہیں، وہ صرف اعترافی بیانات نہیں بلکہ ایک جرم کی گواہی دے رہی ہوتی ہیں۔
ذرائع کے مطابق بی وائی سی جامعات میں دراندازی کر کے نوجوان طالبات کو انتہا پسندی کی طرف مائل کر رہی ہے۔ ذہین طالبات کو ڈاکٹر، انجینئر اور جج بننے کے بجائے احتجاجی سیاست اور تشدد کی راہ پر دھکیلا جاتا ہے۔ یہ قوم کے فکری مستقبل اور خواتین کے حقوق پر براہ راست حملہ ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ حقیقی صنفی انصاف محفوظ اسکول، مساوی اجرت، قانونی تحفظ اور سیاسی نمائندگی سے ممکن ہے۔ بی وائی سی اور بی ایل اے خواتین کو پرتشدد ڈرامے میں استعمال ہونے والے آلے کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ ریاست نے واضح کیا ہے کہ خواتین کی تعلیم، صحت اور قانونی حقوق میں سرمایہ کاری ہی خواتین کے حقوق کا اصل ایجنڈا ہے۔
حکومتی موقف ہے کہ ہر وہ بی ایل اے کمانڈر جس نے خاتون کو خودکش مشن پر بھیجا، ہر وہ بی وائی سی منتظم جس نے طالبہ کو کلاس روم سے نکالا، اور ہر وہ اہلکار جس نے کیمپوں میں خواتین سے زیادتی کی، انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
بیان کے آخر میں کہا گیا کہ بلوچستان کی خواتین ذہین، باحوصلہ اور مواقع کی حقدار ہیں۔ وہ ایسی جامعات، گھروں اور سڑکوں کی مستحق ہیں جو انتہا پسندی اور جبر سے پاک ہوں۔ ریاست نے یقین دلایا ہے کہ اب احتساب کا وقت ہے اور وہ خواتین کے خلاف ہونے والے جرائم پر انصاف فراہم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔

Leave a Reply