لندن( نمائندہ خصوصی) اینڈی برنہم برطانیہ کے وزیراعظم بن گئے اوراب کیئر اسٹارمر کی جگہ منصب سنبھالنے کے بعد وہ ملک کے لیے اپنے وژن کا اعلان کرنے والے ہیں۔ اس سے قبل کیئر اسٹارمر پیر کی صبح ڈاؤننگ اسٹریٹ سے روانہ ہوئے۔ اپنی الوداعی تقریر میں انہوں نے کہا کہ ان کے دو سالہ دورِ حکومت نے برطانیہ کو پہلے سے بہتر ملک بنایا ۔بعد ازاں بادشاہ نے اسٹارمر سے ملاقات کر کے ان کا استعفیٰ قبول کیا، جس کے بعد اینڈی برنہم بکنگھم پیلس پہنچے۔ آئینی روایت کے مطابق بادشاہ نے انہیں نئی حکومت بنانے کی دعوت دی، جسے انہوں نے قبول کر لیا۔ 56 سالہ اینڈی برنہم گزشتہ 10 برسوں میں ڈاؤننگ اسٹریٹ پہنچنے والے برطانیہ کے چھٹے وزیراعظم ہیں۔ کیئر اسٹارمر نے وسطی لندن میں اپنی سرکاری رہائش گاہ کے باہر الوداعی خطاب میں کہا، ”مجھے یقین ہے کہ آج برطانیہ دو سال پہلے کے مقابلے میں زیادہ مضبوط اور زیادہ منصفانہ ملک ہے۔“ انہوں نے مزید کہا، ”میں خوش دلی، مسکراہٹ اور اپنی حکومت کی تمام کامیابیوں پر فخر کے ساتھ رخصت ہو رہا ہوں۔“ اینڈی برنہم کو ایسے وقت میں وزارتِ عظمیٰ کا منصب ملا ہے جب انہیں بے شمار چیلنجز کا سامنا ہے اور اپنی صلاحیتوں کا اظہار کرنے کے لیے ان کے پاس زیادہ وقت بھی نہیں ہوگا۔ دی ٹائمز کو اتوار کی شب دیے گئے ایک انٹرویو میں برنہم نے کہا کہ وہ گزشتہ ایک دہائی سے جاری سیاسی بے یقینی کا خاتمہ کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا، ”جو کچھ ہم کرتے رہے ہیں، وہ کامیاب نہیں ہوا۔ میری نظر میں حقیقت یہی ہے۔“انہوں نے مزید کہا، ”میں معاملات کو مختلف انداز سے آگے بڑھانے کی کوشش کروں گا۔“ان کی ٹیم کے مطابق اپنے پہلے خطاب میں برنہم ”حکومت پر عوام کا اعتماد بحال کرنے اور بڑھتی ہوئی مہنگائی اور زندگی کے اخراجات کے بحران کے دوران برطانیہ کو کچھ ریلیف فراہم کرنے کے لیے اپنی ترجیحات“ پیش کریں گے۔تقریر میں معاشی نمو کو تیز کرنے اور اختیارات کو علاقائی سطح پر منتقل کرنے کے منصوبوں کا بھی اعلان متوقع ہے۔پیر ہی کے روز برنہم اپنی کابینہ کے اہم ارکان کے ناموں کا بھی اعلان کر سکتے ہیں، جبکہ سب کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ وہ ریچل ریوز کی جگہ نیا وزیرِ خزانہ کس کو مقرر کرتے ہیں۔گریٹر مانچسٹر کے سابق میئر، جنہیں ”شمال کا بادشاہ“ بھی کہا جاتا ہے، کو لیبر پارٹی نے گزشتہ ماہ کیئر اسٹارمر کے استعفے کے بعد وزارتِ عظمیٰ کے لیے پیش کیا۔ پارٹی ارکانِ پارلیمان کا خیال ہے کہ وہ نائجل فاریج کی تارکینِ وطن مخالف جماعت ریفارم یو کے کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو روکنے کے لیے پارٹی کی بہترین امید ہیں۔خیال رہے کہ اینڈی برنہم کو منصب سنبھالتے ہی جن بڑے چیلنجز کا سامنا ہوگا، ان میں سست رفتار معیشت، حکومتی قرض لینے کی بلند لاگت، تیزی سے بڑھتے فلاحی اخراجات اور چھوٹی کشتیوں کے ذریعے غیرقانونی تارکینِ وطن کی آمد شامل ہیں، جنہوں نے ریفارم یو کے کی عوامی حمایت میں اضافہ کیا ہے۔امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے باعث توانائی کی غیر یقینی قیمتیں اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی غیر متوقع پالیسیاں بھی ان کی حکومت کے لیے مشکلات بڑھا سکتی ہیں۔
اینڈی برنہم برطانیہ کے نئے وزیراعظم بن گئے

Leave a Reply