اسلام آباد(نمائندہ خصوصی) ایران اور عمان کے درمیان ایک مجوزہ معاہدہ زیرغور ہے جس کے تحت آبنائے ہرمز کے راستے خلیج میں داخل ہونے والے بحری جہازوں کا کنٹرول تہران کو دیا جا سکتا ہے، جو ایران کے لیے اب تک کی سب سے بڑی سفارتی رعایتوں میں سے ایک ہوگی۔ ذرائع کے مطابق اگرچہ یہ پیش رفت ایران کے مطالبات تسلیم کیے جانے کی جانب ایک اہم قدم ہے، تاہم انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کو مسترد کیا کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا معاہدہ قریب الوقوع ہے۔ ان کے بقول کئی اہم نکات پر اب بھی اتفاق ہونا باقی ہے۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ ، ”آبنائے ہرمز پر کسی نہ کسی شکل میں ایران کے کنٹرول سے متعلق رعایت پہلے ہی دی جا چکی ہے۔“
ذرائع کے مطابق اب بھی یہ طے ہونا باقی ہے کہ ”کنٹرول“ کی عملی نوعیت کیا ہوگی۔ خلیجی ممالک کے مذاکرات کار اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ بحری جہازوں کی تلاشی کی نگرانی علاقائی ممالک کریں، جبکہ کسی بھی قسم کی فیس کی ادائیگی رضاکارانہ بنیادوں پر ہو۔ ایرانی ذرائع نے بتایا کہ زیر غور معاہدے کے مسودے میں یہ تجویز شامل ہے کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے خلیج میں داخل ہونے والے جہازوں پر ایران کو اختیار حاصل ہوگا، جبکہ سب سے بڑا اختلاف اس بات پر ہے کہ خلیج سے باہر جانے والے بحری جہازوں پر ایران کا کردار کیا ہوگا۔ مجوزہ معاہدے سے متعلق ان انکشافات پر واشنگٹن کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
امریکی حکام متعدد بار واضح کر چکے ہیں کہ وہ کسی ایسے انتظام کو قبول نہیں کریں گے جس کے تحت دنیا کی توانائی کی رسد کے لیے اہم ترین بحری گزرگاہ تک رسائی کا اختیار ایران کو مل جائے۔ تاہم ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کے دیگر اعلیٰ حکام حالیہ دنوں میں بارہا کہہ چکے ہیں کہ فروری میں شروع ہونے والی جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدہ جلد طے پا سکتا ہے، حالانکہ رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق امریکی ووٹروں کی اکثریت اس جنگ کی مخالف ہے۔ اگرچہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان براہِ راست مذاکرات نہیں ہو رہے، تاہم ایران عمان کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے، جو آبنائے ہرمز کے دوسرے کنارے پر واقع ہے۔ ذرائع کے مطابق ایران نے گزشتہ ہفتے عمان کی ایک سابقہ تجویز یہ کہتے ہوئے مسترد کر دی تھی کہ اس میں اسے بہت کم اختیارات دیے گئے تھے۔ اگر ایسا معاہدہ طے پا جاتا ہے جس کے تحت آبنائے ہرمز تک رسائی پر ایران کو کسی بھی نوعیت کا اختیار مل جاتا ہے تو یہ اس بات کا مظہر ہوگا کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے شروع کی گئی جنگ کے نتیجے میں خطے میں طاقت کا توازن نمایاں طور پر ایران کے حق میں تبدیل ہو گیا ہے۔ جنگ سے قبل آبنائے ہرمز تمام بحری جہازوں کے لیے بغیر کسی فیس کے آزادانہ طور پر کھلی ہوئی تھی۔

Leave a Reply