اسلام آباد ( نمائندہ خصوصی) چین نے ایرانی تیل خریدنے والی پانچ چینی کمپینوں پر امریکی پابندیوں کو مسترد کردیا ہے چین نے ایران سے تیل خریدنے والی کمپنیوں پر امریکی پابندیوں کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ واشنگٹن کی پابندیاں قانونی حیثیت نہیں رکھتیں اور چین ان پر عمل درآمد نہیں کرے گا۔چینی سرکاری خبر رساں ایجنسی ژنہوا کے مطابق وزارتِ تجارت نے ہفتے کے روز قانونی حکم نامہ جاری کیا ہے جس کے تحت چین کی پانچ آئل ریفائنریز پر عائد امریکی پابندیوں کو منسوخ کر دیا ہے۔
بیجنگ کے مطابق امریکی اقدامات میں ان چینی کمپنیوں کو نشانہ بنایا گیا ہے جو ایران سے تیل خریدتی ہیں، تاہم چین نے واضح کیا کہ یہ تجارتی سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری رہیں گی۔زارت نے جن اداروں کے نام جاری کیے ان میں ہینگلی پیٹروکیمیکل (ڈالیان) ریفائنری کے علاوہ نام نہاد ”ٹی پاٹ“ ریفائنریز, شینڈونگ جنچینگ پیٹروکیمیکل گروپ، ہیبئی شنہائی کیمیکل گروپ، شوگوانگ لوچنگ پیٹروکیمیکل اور شینڈونگ شینگ سنگ کیمیکل،شامل ہیں اپریل میں امریکی محکمۂ خزانہ نے ہینگلی پیٹروکیمیکل پر پابندیاں عائد کرتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ اس نے اربوں ڈالر مالیت کا ایرانی تیل خریدا، جو تہران کی تیل آمدنی محدود کرنے کے لیے واشنگٹن کی طویل المدتی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ نے گزشتہ سال وزارت کی جانب سے نامزد کی گئی دیگر چار ریفائنریز پر بھی پابندیاں عائد کی تھیں۔وزارت نے کہا کہ یہ امریکی پابندیاں “بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی تعلقات کے بنیادی اصولوں” کی خلاف ورزی کرتی ہیں۔اسی بنیاد پر، وزارت نے بتایا کہ اس نے ان پابندیوں کے خلاف حکمِ امتناع نافذ کر دیا ہے۔چینی وزارتِ تجارت نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکا کے یہ اقدامات نہ صرف چینی کمپنیوں کو تیسرے ممالک کے ساتھ معمول کی تجارت سے روکنے کی کوشش ہیں بلکہ یہ بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کی بھی خلاف ورزی ہیں۔بیان میں کہا گیا کہ چین اقوام متحدہ کی منظوری اور عالمی قانون کے بنیادی اصولوں کے خلاف تمام یکطرفہ پابندیوں کی مخالفت کرتا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ چین نے اسی بنیاد پر یہ حکم جاری کیا ہے کہ امریکی پابندیوں کو نہ تسلیم کیا جائے گا، نہ ان پر عمل کیا جائے گا، اور نہ ہی انہیں نافذ کیا جائے گا۔واضح رہے کہ امریکا نے حالیہ برسوں میں ایران کی آمدنی کو محدود کرنے کے لیے ان ریفائنریز اور متعلقہ کمپنیوں پر دباؤ اور پابندیاں بڑھا دی ہیں۔چین ایران کے تیل کا ایک بڑا خریدار ہے، جہاں زیادہ تر خام تیل ’ٹی پاٹ ریفائنریز‘ کہلائی جانے والی نجی ریفائنریوں کے ذریعے درآمد کیا جاتا ہے۔ یہ کمپنیاں رعایتی قیمتوں پر ایرانی تیل پر انحصار کرتی

Leave a Reply