امریکہ نے پاکستان سمیت 60 ممالک پر 12.5 فیصد اضافی ٹیرف عائد کرنے کی تجویز دے دی

اسلام آباد( نمائندہ خصوصی) ٹرمپ انتظامیہ نےپاکستان سمیت 60 معیشتوں سے ہونے والی درآمدات پر 12.5 فیصد تک نئی ٹیرف (درآمدی ڈیوٹی) عائد کرنے کی تجویز دی ہے۔ یہ اقدام اس نتیجے پر پہنچنے کے بعد اٹھایا گیا ہے کہ یہ ممالک جبری مشقت (فورسڈ لیبر) سے تیار کردہ سامان کی تجارت کو روکنے میں ناکام رہے ہیں، تاہم امریکہ کے تجارتی شراکت داروں نے اس دعوے کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ امریکی تجارتی نمائندے (یوایس ٹی آر) کے دفتر کی جانب سےجاری کی گئی یہ تجویز سیکشن 301 کے تحت غیر منصفانہ تجارتی طریقوں کی تحقیقات کا نتیجہ ہے۔ اس کا مقصد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ان ہنگامی ٹیرف کو دوبارہ بحال کرنا ہے جنہیں فروری میں امریکی سپریم کورٹ کے ایک فیصلے نے منسوخ کر دیا تھا۔ ان پر پابندی کے قوانین کے باوجود جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات دنیا بھر کی سپلائی چینز (پیداواری سلسلوں) میں گہرائی تک سرایت کر چکی ہیں

لیکن بالخصوص یورپی قانون ساز اس الزام پر شدید برہم ہیں کہ ان کا خطہ ایسی اشیاء کی تجارت کو روکنے میں امریکہ کے مقابلے میں کم موثر ہے اور ایک قانون ساز نے تو امریکی نتائج کو بالکل مضحکہ خیز قرار دیا ہے۔ امریکی تجارتی نمائندے (یو ایس ٹی آر) نے پاکستان، کینیڈا، ایکواڈور، یورپی یونین، انڈونیشیا، میکسیکو، ارجنٹائن، بنگلہ دیش، کمبوڈیا، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا، ملائیشیا، تائیوان اور برطانیہ سے ہونے والی درآمدات پر 10 فیصد اضافی ڈیوٹی تجویز کی ہے۔ یو ایس ٹی آر کا کہنا ہے کہ ان تمام ممالک کے پاس اس حوالے سے منصوبے یا جزوی اسکیمیں موجود ہیں۔ تجارتی ایجنسی نے کہا کہ وہ بقیہ 45 ممالک پر 12.5 فیصد اضافی ڈیوٹی عائد کرے گی جن کی تحقیقات کی گئی ہیں۔

ان ممالک میں چین، بھارت، نائیجیریا، جاپان، جنوبی کوریا، ویتنام، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ شامل ہیں۔ امریکی تجارتی نمائندے جیمی سن گریر نے ایک بیان میں کہا کہ ہمارے سب سے اہم تجارتی شراکت داروں کا جبری مشقت سے بنے سامان کی درآمد کو روکنے میں ناکام رہنا ناقابلِ قبول ہے۔ یہ ایک ایسی صورتحال پیدا کرتا ہے جہاں امریکی کارکنوں کو عالمی سطح پر ایک غیر مساوی میدان میں مقابلہ کرنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔ یو ایس ٹی آر نے کہا کہ وہ مجوزہ ٹیرف اور دیگر تدارک کے اقدامات پر 6 جولائی تک عوامی آراء قبول کرے گا جبکہ اس حوالے سے ایک عوامی سماعت 7 جولائی کو طے کی گئی ہے۔

خبر شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *