اسلام آباد: برینٹ خام تیل کی قیمتیں جمعرات کے روز چار سال کی نئی بلند ترین سطح تک پہنچ گئیں، کیونکہ خدشہ ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ مزید شدت اختیار کر سکتی ہے اور مشرقِ وسطیٰ سے تیل کی سپلائی طویل عرصے تک متاثر رہ سکتی ہے، جس سے عالمی اقتصادی ترقی کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ دوسری جانب اوپیک پلس اتوار کو تیل کی پیداوار میں معمولی اضافہ کرنے پر غور کر رہا ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگ اور سپلائی میں رکاوٹوں کے باعث اس کا اثر محدود ہوگا۔ برینٹ خام تیل کی جون ڈیلیوری کے لیے قیمت 4.28 ڈالر یا 3.63 فیصد اضافے کے ساتھ 122.31 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ گزشتہ سیشن میں بھی اس میں 6.1 فیصد اضافہ ہوا تھا۔
جبکہ جولائی کا زیادہ فعال معاہدہ 112.49 ڈالر پر پہنچ گیا، جو 2.05 ڈالر یا 1.86 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے۔امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آءی) خام تیل کی قیمت بھی 1.46 ڈالر یا 1.37 فیصد اضافے کے ساتھ 108.34 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، اور یہ مسلسل آٹھ میں سے نو سیشنز میں اضافہ دکھا چکی ہے۔ دونوں بینچ مارکس مسلسل چوتھے مہینے اضافے کی طرف جا رہے ہیں۔سال کے آغاز سے اب تک برینٹ کی قیمتیں دوگنی سے زیادہ ہو چکی ہیں اور مارچ 2022 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں، جبکہ ڈبلیو ٹی آئی میں 90 فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو جمعرات کے روز ایران پر ممکنہ فوجی حملوں کے منصوبوں پر بریفنگ دی جانی ہے،
تاکہ ایران کو جوہری پروگرام پر مذاکرات کی طرف واپس لایا جا سکے۔امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران پر فضائی حملے شروع کیے تھے، جس کے جواب میں ایران نے آبنائے ہرمز سے تقریباً تمام بحری ٹریفک محدود کر دی۔ اس آبی گزرگاہ کو عالمی توانائی سپلائی کا اہم ترین راستہ سمجھا جاتا ہے۔ماہرین کے مطابق جاری جنگ اور تعطل نے عالمی توانائی مارکیٹ میں اب تک کا سب سے بڑا خلل پیدا کیا ہے۔ مذاکرات میں امریکا ایران کے جوہری پروگرام پر بات چیت پر زور دے رہا ہے، جبکہ ایران آبنائے ہرمز پر کنٹرول اور جنگی نقصانات کے ازالے کا مطالبہ کر رہا ہے۔

Leave a Reply