اسلام آباد میں آج صورتحال اس وقت کشیدہ ہو گئی جب مختلف داخلی و خارجی راستوں پر سیکیورٹی سخت کرتے ہوئے شہر کو سیل کر دیا گیا۔ “اسلام آباد لاک ڈاؤن” کے نام سے رکاوٹیں جگہ جگہ نصب کر دی گئیں جس کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات اور ٹریفک جام کا سامنا کرنا پڑا۔
اطلاعات کے مطابق خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ کی آمد کے دوران انہیں اسلام آباد میں داخل ہونے سے روک دیا گیا، جس کے بعد مختلف شاہراہوں پر سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی۔
فیصل مسجد کے اطراف اور دیگر اہم مقامات پر انسدادِ فسادات پولیس کی بھاری نفری تعینات رہی، جبکہ ہیلی کاپٹر فضا میں پرواز کرتے ہوئے صورتحال کی نگرانی کرتے رہے۔
شہریوں کی بڑی تعداد مختلف سڑکوں پر گھنٹوں تک پھنس کر رہ گئی۔ دفاتر جانے والے ملازمین، طلبہ اور عام شہریوں کو متبادل راستوں کی تلاش میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
ذرائع کے مطابق سیکیورٹی اقدامات ممکنہ احتجاج یا سیاسی سرگرمیوں کے پیش نظر کیے گئے، تاہم انتظامیہ کی جانب سے عوامی آمد و رفت میں رکاوٹ پر کوئی باضابطہ وضاحت فوری طور پر سامنے نہیں آئی۔
اسلام آباد میں سخت سیکیورٹی اقدامات نے شہری نظامِ زندگی کو متاثر کیا ہے۔ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ بڑے سیاسی یا سیکیورٹی آپریشنز کے دوران شہریوں کی سہولت اور ٹریفک مینجمنٹ ایک بڑا چیلنج بن جاتا ہے۔

Leave a Reply