مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی تعطل برقرار، لبنان اور غزہ کی صورتحال کسی بھی ممکنہ معاہدے کے لیے فیصلہ کن قرار

 

واشنگٹن ڈی سی: فضل خالق سے
مشرقِ وسطیٰ میں جاری جغرافیائی سیاسی کشیدگی ایک بار پھر عالمی سفارتی حلقوں کی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی ساتھی، ممتاز ریپبلکن رہنما اور معروف سیاسی تجزیہ کار ڈاکٹر ساجد تارڑ نے ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری تنازعے پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ بحران کو چورانوے روز سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے باوجود مذاکراتی عمل تاحال کسی ٹھوس پیش رفت سے محروم ہے۔

واشنگٹن میں میڈیا سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر ساجد تارڑ نے کہا کہ خطے میں جاری اسٹریٹجک کشیدگی نے نہ صرف علاقائی سلامتی کو متاثر کیا ہے بلکہ عالمی سفارتی کوششوں کو بھی پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ان کے مطابق متعدد بین الاقوامی فریقین کی ثالثی کے باوجود مذاکرات ایک ایسے تعطل کا شکار ہیں جہاں کسی حتمی سیاسی فریم ورک یا جامع معاہدے کی راہ ہموار ہوتی دکھائی نہیں دے رہی۔

ڈاکٹر ساجد تارڑ نے کہا کہ موجودہ بحران کے دوران لبنان سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل رہا ہے جہاں مسلسل فوجی کارروائیوں اور سکیورٹی چیلنجز نے صورتحال کو انتہائی نازک بنا دیا ہے۔ ان کے مطابق لبنان میں جاری کشیدگی صرف ایک مقامی مسئلہ نہیں بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کے سکیورٹی آرکیٹیکچر اور علاقائی توازن پر براہِ راست اثرات مرتب کر رہی ہے۔

انہوں نے ایران کے مؤقف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تہران مسلسل یہ پیغام دے رہا ہے کہ خطے کے مختلف محاذ ایک دوسرے سے منسلک ہیں اور کسی ایک محاذ پر ہونے والی کارروائی کو پورے اتحاد کے خلاف اقدام تصور کیا جاتا ہے۔ یہی سوچ موجودہ سفارتی تعطل اور مذاکراتی پیچیدگیوں کی بنیادی وجوہات میں سے ایک ہے۔

ڈاکٹر ساجد تارڑ کے مطابق ایران اس وقت تک کسی جامع مفاہمتی فارمولے یا وسیع تر سفارتی معاہدے کی جانب پیش رفت کے لیے آمادہ نظر نہیں آتا جب تک لبنان میں فوجی دباؤ میں کمی اور غزہ میں انسانی بحران کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات نہیں کیے جاتے۔ ان کا کہنا تھا کہ غزہ کی صورتحال عالمی ضمیر کے لیے ایک بڑا امتحان بن چکی ہے اور اس مسئلے کا پائیدار حل خطے میں دیرپا استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حالات میں عالمی طاقتوں کو محض عسکری حکمتِ عملی کے بجائے مؤثر سفارت کاری، علاقائی ڈائیلاگ اور سیاسی مفاہمت کے راستے کو ترجیح دینا ہوگی۔ بصورتِ دیگر خطہ ایک طویل المدتی عدم استحکام، معاشی بے یقینی اور سکیورٹی خطرات کی جانب بڑھ سکتا ہے۔

بین الاقوامی امور کے ماہرین کے مطابق ڈاکٹر ساجد تارڑ کا تجزیہ اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کا بحران اب محض ایران، امریکہ یا اسرائیل تک محدود نہیں رہا بلکہ لبنان، غزہ اور دیگر علاقائی عوامل بھی مستقبل کے کسی ممکنہ معاہدے کے لیے کلیدی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ آنے والے ہفتے اور مہینے مشرقِ وسطیٰ کی جیوپولیٹیکل صورتحال کے لیے غیر معمولی اہمیت کے حامل ہوں گے، جبکہ عالمی برادری کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا سفارتی کوششیں کسی بریک تھرو کی طرف بڑھتی ہیں یا خطہ مزید کشیدگی کی جانب جاتا ہے۔

خبر شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *