بجٹ پھر مؤخر! آئی ایم ایف نے حکومت کو روک دیا؟ اندر کی کہانی سامنے آگئی

اسلام آباد( محمد فیضان) وفاقی بجٹ کی نئی تاریخ طے نہیں ہو سکی مصدقہ ذرائع کے مطابق بجٹ میں تاخیر کی وجہ آئندہ مالی منصوبے کے مالیاتی خدوخال پر حکومت اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان جاری مشاورت ہے۔جبکہ تعطل کا ایک بڑا سبب پی ایس ڈی پی کا حجم اور اس کی تشکیل ہے، کیونکہ اتحادی حکومت کے مختلف حلقے مالی گنجائش کی محدود صورتحال کے باوجود ترقیاتی منصوبوں کے لیے زیادہ فنڈز مختص کرنے پر زور دے رہے ہیں۔ وزارتِ خزانہ نے پی ایس ڈی پی 2026-27 کے لیے 1.126 کھرب روپے مختص کیے ہیں، جبکہ مجموعی ترقیاتی ضروریات 4.097 کھرب روپے ہیں، جس کے نتیجے میں تقریباً 3 کھرب روپے کا مالی خلا پیدا ہو رہا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ حکام بجٹ اخراجات کو حتمی شکل دینے اور ٹیکس اقدامات کا اعلان کرنے سے قبل آئی ایم ایف کی توقعات سے وسیع ہم آہنگی یقینی بنانا چاہتے ہیں۔ مذاکرات میں شامل ایک ذریعے نے کہا، ’’حکومت بجٹ کے اعلان کے بعد آخری وقت میں تبدیلیوں سے بچنا چاہتی ہے۔ اہم مالیاتی اعداد و شمار پر آئی ایم ایف کا اعتماد اور اتفاقِ رائے حاصل کرنا ناگزیر سمجھا جا رہا ہے۔‘‘

یہ بجٹ ایسے وقت میں پیش کیا جا رہا ہے جب پاکستان آئی ایم ایف کی عائد کردہ سخت مالیاتی پابندیوں کے تحت معاشی استحکام کے حصول کی کوشش کر رہا ہے۔ حکومت آئندہ مالی سال میں مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 4 فیصد تک پہنچانے کا ہدف رکھتی ہے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں قدرے زیادہ ہے، تاہم مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں ممکنہ اضافے کے خطرات بدستور موجود ہیں۔ پاکستان کو توقع ہے کہ آئندہ مالی سال کے دوران اوسط مہنگائی کی شرح 8.2 فیصد رہے گی۔

خبر شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *