اسلام آباد( نمائندہ خصوصی) مشرقِ وسطیٰ کی ایئر لائن کمپنیوں نے اپریل کے دوران مسافروں کی طلب میں 46.6 فیصد کمی ریکارڈ کی ہے، جس کے باعث عالمی فضائی ٹریفک میں مجموعی طور پر 3.4 فیصد کمی واقع ہوئی ہے، کیونکہ خطے میں جاری تنازعات نے سفری ذرائع کو متاثر کیا ہے۔انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کی تازہ ترین مسافر ٹریفک رپورٹ کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں اگر یہ شدید گراوٹ نہ آتی تو عالمی طلب مثبت رہتی۔ اس خطے میں ایئر لائنز کو آپریشنل رکاوٹوں، کمزور سفری طلب اور تنازعی کے باعث بڑھتے ہوئے اخراجات کا سامنا کرنا پڑتا رہا۔آئی اے ٹی اے کے ڈائریکٹر جنرل ولی والش نے کہا کہ ’خطے میں جنگ کے باعث مشرقِ وسطیٰ کی ایئر لائن کمپنیوں کی طلب میں 46.6 فیصد کمی اس قدر شدید تھی کہ اس نے عالمی طلب کو مجموعی طور پر منفی 3.4 فیصد تک کم کیا۔‘ ولی والش نے خبردار کیا کہ حالات اب بھی غیر یقینی ہیں،
کیونکہ ایئر لائن کمپنیوں کو ایندھن کی بڑھتی قیمتوں اور کمزور طلب کا سامنا ہے۔ پیشگی بکنگ کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ کمپنیاں آنے والے مہینوں میں اپنے شیڈول کم کر رہی ہیں تاکہ اخراجات اور مارکیٹ کے حالات میں توازن قائم رکھا جا سکے۔ اپریل میں مشرقِ وسطیٰ کی ایئر لائن کمپنیوں نے تمام خطوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ کمی ریکارڈ کی۔ مسافروں کی مجموعی طلب میں سال بہ سال 46.6 فیصد جبکہ بین الاقوامی ٹریفک میں 48.1 فیصد کمی آئی، جبکہ استعداد بھی نمایاں طور پر گھٹ گئی۔
یہ کمی اگرچہ مارچ کے مقابلے میں کچھ کم تھی، لیکن علاقائی فضائی نیٹ ورکس میں خلل کے باعث فضائی ٹریفک شدید متاثر رہی

Leave a Reply