کشمیری مہاجرین کی 12 نشستوں کے خاتمے کا مطالبہ

کشمیرکی تحریکِ آزادی کے خلاف بھارتی سازش ؟

تحریر: وجیہ احمد صدیقی

آزاد کشمیر میں قائم “جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی” کے 38 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ میں شامل سب سے متنازعہ اور حساس مطالبہ آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں موجود کشمیری مہاجرین کی 12نشستوں کے خاتمے کا ہے۔ یہ مطالبہ محض ایک سیاسی تقاضا نہیں بلکہ مسئلہ کشمیر کی بنیادوں کو جڑ سے اکھاڑ دینے کی دانستہ کوشش ہے اور یہ کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے حصول کی جدوجہد پر ایک گہرا وار ہے۔

مقبوضہ کشمیر: مسلمانوں کے بارے میں حقیقت

مقبوضہ جموں و کشمیر (بھارت کے زیرِ قبضہ کشمیر) میں مسلمانوں کی صورتحال انتہائی المناک ہے۔ جنوری 1989 سے اپریل 2024 تک تقریباً ایک لاکھ معصوم کشمیریوں کو شہید کیا جا چکا ہے جبکہ ایک لاکھ 70 ہزار سے زائد کشمیریوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ کشمیری مسلمان کل آبادی کا تقریباً 97 فیصد ہیں لیکن انہیں اپنے بنیادی انسانی حقوق سے مسلسل محروم کیا جا رہا ہے۔
مقبوضہ کشمیر میں عید الاضحیٰ اور دیگر اسلامی تہوار آزادی سے نہیں منائے جاتے۔ بھارتی فورسز عید الاضحیٰ کے موقع پر مکمل کرفیو نافذ کرتی ہیں، مساجد بند کی جاتی ہیں، اور کشمیریوں کو جامع مسجد سرینگر اور عیدگاہ میں نماز عید ادا کرنے سے روکا جاتا ہے۔ 2024 میں بھارتی حکومت نے کشمیری مسلمانوں کو جامع مسجد سرینگر اور عیدگاہ میں نمازِ عید سے مکمل طور پر روک دیا تھا اور سینئر رہنما میر واعظ عمر فاروق کو گھر میں نظر بند کر دیا گیا ہے۔
دینی و تعلیمی اداروں پر این آئی اے (نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی) کے چھاپے پڑتے رہتے ہیں، مدارس بند کیے جاتے ہیں، اور اسلامی شعائر اور قوانین اور رسومات کے خلاف مذہبی تعصب پر مبنی پالیسیاں نافذ کی جاتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ مودی حکومت کے “مسلم دشمن اور جابرانہ ایجنڈے” کا واضح ثبوت ہے۔
*کشمیری مہاجرین کی 12 نشستیں: مسئلہ کشمیر کی علامت*
آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں مختص 12 نشستیں پاکستان میں مقیم مہاجرین (جو بھارت کے زیرِ قبضہ کشمیر سے تعلق رکھتے ہیں) کے لیے مخصوص ہیں۔ یہ نشستیں محض سیاسی نمائندگی نہیں بلکہ:
کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی علامت ہیں
مسئلہ کشمیر کے متنازعہ ہونے کی بین الاقوامی شناخت ہیں
بھارت کے غیر قانونی قبضے کو تسلیم کرنے سے انکار کا اظہار ہیں۔
ایکشن کمیٹی کا یہ مطالبہ کہ ان 12 نشستوں کو ختم کیا جائے، دراصل کشمیریوں کی تقسیم کے مترادف ہے اور کشمیر کی جدوجہد آزادی سے غداری کے مترادف ہے۔ سابق وفاقی وزیر دانیال عزیز نے واضح کیا کہ “مہاجرین سیٹوں کا خاتمہ کشمیریوں کی تقسیم کے مترادف ہے” اور عوامی ایکشن کمیٹی کو مہاجرین سے ان کی شناخت چھیننے کی کوشش سے روکنا چاہیے۔
ایکشن کمیٹی کے 38 نکاتی چارٹر میں شامل دیگر مطالبات بھی انتہائی نامعقول اور ملک دشمنی کے برابر ہیں:جیسے
*مفت بجلی کی فراہمی (بغیر ٹیکس کے)*
مفت آٹا
مفت تعلیم
مفت صحت سہولت کارڈ
بلا سود قرضے نوجوانوں کے لیے
روزگار کی لازمی فراہمی
20 مختلف ٹنل اور سڑکوں کی تعمیر
انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا قیام
ان تمام مطالبات کی تکمیل کے لیے درپیش اخراجات کسی بھی ملک کو دیوالیہ کرنے کے گنجائش رکھتے ہیں۔
پاکستان کے شہریوں کو بھی مفت بجلی، مفت آٹے، مفت تعلیم اور مفت علاج کی سہولیات حاصل نہیں ہیں۔ ٹیکس کے بغیر مفت سہولیات کا نظام پاکستان کے کسی بھی شہری کو نہیں دیا گیا،تو پھر کیوں آزاد کشمیر سے رہنے والے کشمیریوں کو یہ سہولیات دی جائیں؟
بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں اپنے شہریوں کو مکمل آزادی دے دی ہے۔ بھارتی شہری وہاں جا کر جائیداد خرید سکتے ہیں، سٹل ہو سکتے ہیں، اور آزادانہ زندگی گزار سکتے ہیں۔ لیکن آزاد کشمیر میں پاکستانی شہریوں کو یہ حق نہیں دیا گیا کہ وہ وہاں جائیداد یا زمین خریدیں۔ یہاں تک کہ وہ گلگت بلتستان کے علاقے میں بھی کوئی جائیداد یا زمین نہیں خرید سکتے کیونکہ وہ بھی کشمیر کے تنازعے کا حصہ ہے۔
اس صورتحال میں ایکشن کمیٹی کے یہ مطالبات سراسر تحریک آزادی کشمیر اور پاکستان سے غداری ہیں۔
مقبوضہ کشمیر: بھارتی شہریوں کو جائیداد خریدنے کی مکمل آزادی
آزاد کشمیر: پاکستانی شہریوں کو جائیداد خریدنے کی اجازت نہیں
یہ “متنازعہ علاقے” کا درجہ ہے جو مسئلہ کشمیر کی عالمی شناخت کو برقرار رکھتا ہے۔ اگر آزاد کشمیر میں بھی پاکستانی شہریوں کو جائیداد خریدنے کی اجازت دے دی گئی تو پھر کشمیر کا “متنازعہ” ہونا ختم ہو جائے گا اور بھارت کے غیر قانونی قبضے کو جائز تسلیم کر لیا جائے گا۔
آزاد کشمیر کی حکومت کے قیام کا اصل مقصد یہ ہے کہ کشمیر کی آزادی کے لیے یہاں سے کوشش کی جائے۔ یہ تحریک آزادی کشمیر کا لانچنگ پیڈ ہو۔ خود ارادیت کشمیریوں کا حق ہے آزاد اور مقبوضہ کشمیر دونوں کے شہریوں کو اس حق کے لیے جدوجہد کرنا ہوگی مقبوضہ کشمیر کے لوگ اس جدوجہد کے لیے کوششیں کر رہے ہیں جبکہ آزاد کشمیر میں ایکشن کمیٹی ٹائپ کے لوگ اس حق سے دستبردار ہو گئے ہیں۔ آزاد کشمیر حکومت مراعات حاصل کرنے کے لیے نہیں بنائی گئی تھی، بلکہ اسے تمام کشمیر کی آزادی کے لیے ایک سیاسی پلیٹ فارم کے طور پر قائم کیا گیا ہے۔
کوئی بھی کشمیری جو سرحد کے اس پار سے آتا ہے، وہ کشمیری ہی کہلائے گا۔ یہ ان کی شناخت ہے، ان کا حق ہے، اور ان کی جدوجہد کا حصہ ہے۔ کشمیری مہاجرین کے لیے مختص 12 نشستیں اسی حق کی نمائندگی کرتی ہیں۔
*بھارتی ایما پر تحریکِ آزادی کو ختم کرنے کی سازش؟*
ایسے مطالبات جو کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کو کمزور کرتے ہیں، ان کو دیکھ کر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بھارت کی ایما پر کیے جا رہے ہیں۔ اگر یہ مطالبات تسلیم کر لیے گئے تو یہ کشمیری تحریکِ آزادی کو ختم کرنے کے لیے ایک بڑا قدم ہوگا۔
ایکشن کمیٹی کا یہ مطالبہ کہ مقبوضہ کشمیر سے آنے والے مہاجرین کے لیے مختص 12 نشستیں ختم کی جائیں، ایک نہایت ہی ظالمانہ اور خود غرضی پر مشتمل مطالبہ ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے عوام کشمیر کی آزادی کے لیے، اپنے حقِ خودارادیت کے لیے جدوجہد کے نتیجے میں مسلسل اپنے بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہیں، اور پھر انہی کشمیریوں کی نمائندگی کرنے والی نشستوں کو ختم کرنا دہلی کی جانب سے کی گئی کسی بھی سازش کا حصہ ہو سکتا ہے۔طبیعی طور پر، ایسے مطالبات کے پیچھے کوئی اور بیرونی قوت کارفرما ہو سکتی ہے جو کشمیری عوام کی جدوجہد کو کمزور کرنا چاہتی ہے۔ اگر اس فتنے کو طاقت اور قوت کے ساتھ نہیں روکا گیا، تو آئندہ چل کر یہ فتنہ بہت بڑا فساد بن سکتا ہے۔
*38 نکاتی چارٹر: کچھ مطالبات تسلیم، کچھ غلط*
آزاد کشمیر حکومت اور ایکشن کمیٹی کے درمیان اکتوبر 2025 میں تحریری معاہدہ ہوا، جس میں تمام مطالبات تسلیم کیے گئے۔ لیکن کچھ مطالبات ایسے ہیں جو تسلیم نہیں کیے جانے چاہیے تھے:
کشمیری مہاجرین کی نشستوں کا خاتمہ — غلط اور متنازعہ
مفت بجلی، مفت آٹا، مفت تعلیم — یہ سہولت تو پاکستان کے شہریوں کو بھی نہیں ہے
بلا سود قرضے — مالیاتی بوجھ
کوٹہ سسٹم کا مکمل خاتمہ —
ان میں ایک آدھ مطالبہ تو جائز ہے لیکن بہت سے ایسے مطالبات ہیں جو پاکستانی شہریوں کو بھی نہیں حاصل ہیں اور حکومت اگر چاہے بھی تو نہیں دے سکتی۔
یہ مطالبات نہایت افسوسناک ہیں کیونکہ یہ آزاد کشمیر کے قیام کے اصل مقصد (تمام کشمیر کی آزادی) کے خلاف ہیں۔

اگر یہ مطالبات تسلیم کر لیے گئے، تو:
مسئلہ کشمیر کی بین الاقوامی شناخت کمزور ہوگی
کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کا تحفظ ختم ہوگا
بھارت کے غیر قانونی قبضے کو جائز تسلیم کیا جائے گا۔
کشمیری تحریکِ آزادی کو بڑا دھچکا لگے گا۔
آزاد کشمیر کی حکومت کا فرض ہے کہ وہ کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کے تحفظ کے لیے کھڑی ہو اور اس طرح کے خود غرضانہ مطالبات کو مسترد کرے۔ کشمیریوں کی جدوجہد پر کوئی بھی سمجھوتہ انتہائی مہنگا پڑ سکتا ہے۔

خبر شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *