اسلام آباد(نمائندہ خصوصی) اینڈ اِٹ فاؤنڈیشن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر ضیاء الدین اسلام نےفوری ریگولیٹری اقدامات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں ہر سال ایک لاکھ ترسٹھ ہزار پانچ سو جانیں تمباکو کی نذر ہو جاتی ہیں، تمباکو سے نجات کا راستہ ممانعت نہیں بلکہ نقصان میں کمی کے نسبتی فوائد کو اپنانا ہے،ہارم ریڈیکشن وہ عملی قدم ہے جوجانیں بچاتا ہے اور خطرات کو قابو میں لاتا ہے جیسا کہ دیگر ممالک نے اسے اپناتے ہوئےتمباکو سے نقصان میں تخفیف کے فوائد حاصل کئے اور خطرات کو قابو میں کیا ،
انہوں نے ان خیالات کا اظہاراینڈ اِٹ فاؤنڈیشن کےڈائریکٹر ریسرچ محمد فیصل کے ہمراہ نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں لاہور میں ہونے والے پاکستان کے پہلے ویپ سروے کے نتائج کے حوالے سے رپورٹ کے اجراء کے موقع پر کیا،سروے میں 1710 افراد نے حصہ لیا جن کے نتائج کے مطابق 60 فیصد افراد نے سیگریٹ نوشی میں کمی کی ہے جبکہ 13 فیصد افردا نےسگریٹنوشی کو مکمل طور پر خیر آباد کہہ دیا ہےجن میں سے 94 فیصد نے صرف چھ ماہ کے اندر سگریٹ نوشی ترک کی ہے،یہ سب کچھ کسی حکومتی رہنمائی، کسی ڈاکٹریا ترک سگریٹ پروگرام کے بغیر ہوا ہے، اینڈ اِٹ فاؤنڈیشن نےان نتائج کی روشنی میں حکومت، وزارت قومی صحت خدمات اور متعلقہ ریگولیٹری حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ شوائدپر مبنی اینڈز ریگولیٹری فریم ورک تیار کیا جائےکیونکہ پاکستان کو کم از کم پروڈکٹ سیفٹی معیارات ، اجراء کے انکشافات کی ضروریات،شفاف لیبلنگ اور قابل نفاذ ریٹیل احتساب کی ضرورت ہےجو صحت عامہ کے ماہرین کئی غیر موجودگی کے بجائے انکی موجودگی میں تیار ہو،اس سے پہلے کہ نوجوانوںتک رسائی کے اعداد و شمار مزید بگڑیںفروخت کی جگہ پر عمر کی پابندیوں کا نفاذ یقینی بنایا جائے،
لازمی ریٹیلرز لائسنسنگ، فروخت کے مقام کی تصدیق اور عدم تعمیل پر موثر جرمانےمتعارف کرائے جائیں،خطرے کے حوالے سے وزارت قومی صحت خدمات ،طبی انجمنوں اور سول سوسائٹی کے اشتراک سےواضح اور قابل فہم انداز میں عوامی آگاہی مہم شروع کی جائے،ویپنگ کو ترک تمباکو سپورٹ فریم ورک میں شامل کیا جائے، صٖ اول کے صحت کے کارکنان، فارماسسٹ اور کمیونٹی ہیلتھ والنٹیئرزکو وسائل مہیا کئے جائیںتاکہ وہ ان 65 فیصد تمباکو نوشوں کی مدد کر سکیں جوویپنگ کو خودرہنماء ترک تمباکو آلے کے طور پر استعمال کر رہے ہیں،پاکستان کو طویل مدتی اور قومی سطح پرنمائندہ تحقیق کی ضرورت ہے، ویپنگ وائسسز مطالعہ صرف آغاز ہے،ملک کو ایسے ہورٹ ڈیتا کی ضرورت ہے جو وجہ اور اثر کے تعلقات واضح کر سکے،یہ نتائج ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب پاکستان میں ہر سال 163500 افراد تمباکو نوشی سے پیدا ہونے والے امراض کے باعث موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں جبکہ 2019 میں تمباکو سے منسوب معاشی نقصانات کا اندازہ 615 ارب روپے لگایا گیا ہے جو 2025 کے اختتام تک 926 ارب روپے تک پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا گیاتھا۔

Leave a Reply