ایران کے ساتھ معاہدے کے بہت قریب پہنچ چکے: امریکی نائب صدر

 

امریکہ ایران معاہدے کی امیدیں، تیل کی عالمی قیمتوں میں نمایاں کمی

امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی میں ممکنہ توسیع اور سفارتی پیش رفت کی خبروں کے بعد عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے، جس نے توانائی مارکیٹ کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

رائٹرز کے مطابق جمعے کے روز برینٹ کروڈ فیوچرز میں 1.1 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی اور قیمت 92.67 ڈالر فی بیرل تک آ گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 1.4 فیصد کمی کے بعد 87.64 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔

ماہرین کے مطابق اس ہفتے تیل کی قیمتوں میں مجموعی طور پر 10 فیصد سے زائد کمی دیکھی گئی، جو اپریل کے بعد سب سے بڑی ہفتہ وار گراوٹ ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی پیش رفت جاری رہی تو خام تیل مزید دباؤ کا شکار ہو سکتا ہے۔

آئی جی کے تجزیہ کار ٹونی سائکامور کے مطابق مارکیٹ میں یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان تنازع کسی معاہدے کی طرف بڑھ رہا ہے، جس کے باعث قیمتیں 80 ڈالر فی بیرل کی سپورٹ سطح تک بھی جا سکتی ہیں۔

ادھر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے تصدیق کی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان بات چیت میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے، تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے حتمی منظوری ابھی باقی ہے۔ ان کے مطابق کچھ تکنیکی نکات پر بات چیت جاری ہے اور فریقین معاہدے کے کافی قریب پہنچ چکے ہیں۔

اسی دوران پاکستان بھی خطے میں ایک اہم سفارتی کردار ادا کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ وزیر خارجہ اسحاق ڈار اس ہفتے واشنگٹن میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کریں گے، جس میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور خطے میں امن کی کوششوں پر تبادلہ خیال ہوگا۔

یاد رہے کہ پاکستان پہلے ہی ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے ثالثی کا کردار ادا کر چکا ہے اور اسلام آباد میں دونوں ممالک کے درمیان براہ راست مذاکرات کی میزبانی بھی کی گئی تھی۔

پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار نیویارک میں ملاقاتوں کے بعد واشنگٹن روانہ ہوں گے، جہاں وہ امریکی قیادت کے ساتھ علاقائی امن اور عالمی صورتحال پر بات چیت کریں گے۔

خبر شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *