اسلام آباد( نمائندہ خصوصی) امریکہ نے غزہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کی نگرانی اور فلسطینیوں کے لیے امدادی سامان کی فراہمی کے لیے بنایا گیاامریکی فوج کے زیرانتظام کام کرنے والے مرکز کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے اس پیش رفت سے واقفیت رکھنے والے ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ اس مرکز کو بند کر دے گی کیونکہ یہ ناکام ہو گیا ہے۔
اسرائیل میں سول ملٹری کوآرڈینیشن سینٹر (سی ایم سی سی) کی ممکنہ بندش کو صدر ٹرمپ کے غزہ پلان کے لیے دھچکے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جو پہلے ہی کافی کمزور حالت میں ہے کیونکہ جنگ بندی کے بعد بھی اسرائیل کئی حملے کر چکا ہے جبکہ حماس کی جانب سے ہتھیار ڈالنے سے مسلسل انکار سامنے آتا رہا ہے۔ سفارت کاروں اور حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام جنگ بندی کی نگرانی اور امداد کے حوالے سے ہم آہنگی کے لیے امریکی کوششوں کو درپیش مشکلات کو بھی ظاہر کرتا ہے کیونکہ اسرائیل نے غزہ کے مزید علاقوں پر قبضہ کر لیا ہے جبکہ دوسری جانب حماس نے اپنے ریرکنٹرول علاقوں پر گرفت مزید مضبوط کر لی ہے۔
اسی طرح اس اقدام سے واشنگٹن کے ان اتحادیوں میں بے چینی بھی بڑھ سکتی ہے جن کو صدر ٹرمپ نے سی ایم سی سی میں اہلکاروں کی تعیناتی اور غزہ میں تعمیر نو کے پلان میں فنڈز دینے کی ترغیب دی تھی،اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر حملے اور جنگ شروع ہونے سے یہ مشن رک کر رہ گیا تھا۔
سی ایم سی سی کے اقدامات سے واقفیت رکھنے والے سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ یہ مرکز جلد ہی بند کر دیا جائے گا اور اس کی نگرانی اور امداد سے متعلق ذمہ داریاں امریکی کمان کے تحت بین الاقوامی سکیورٹی مشن کو سونپ دی جائیں گی جسے غزہ میں تعینات کیا جانا ہے۔ایک سفارت کار جن کو امریکی مںصوبے کے بارے میں بریف کیا گیا ہے، نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ وہاں فوجیوں کی تعداد 190 سے کم ہو کر 40 رہ جائے گی دوسری جانب غزہ کی نگرانی کے لیے قائم کردہ نام نہاد بورڈ آف پیس کے ایک اہلکار نے سی ایم سی سی کے مستقبل پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا

Leave a Reply