نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) ایران نے سرحدی صوبے کی حدود میں امریکا کے 2 جنگی طیارے مار گرائے ایک طیارے کے پائلٹ کو ریسکیو کرنے کے لیے آنے والا ہیلی کاپٹر بھی تباہ کردیا امریکی حکام نے طایرے گرائے جانے کی تصدیق کردی ہے جبکہ بین الاقوامی میڈیا نے امریکی حکام کے حوالے سے لڑاکا طیارہ گرنے کی تصدیق کی ہے۔ امریکی افواج نے گمشدہ پائلٹ کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن کیا جب کہ ایرانی سیکیورٹی فورسز اور عوام بھی پائلٹ کی تلاش کے لیے متحرک ہیں۔امریکی اور ایرانی حکام نے لڑاکا طیارہ گرنے کی تصدیق کی ہے تاہم طیارے کی ساخت کے بارے میں مختلف دعوے کیے جارہے ہیں۔ ایران کا دعویٰ ہے کہ گرنے والا طیارہ ایف 35 تھا جب کہ امریکی حکام اسے ایف 15 ای طیارہ قرار دے رہے ہیں۔
امریکی حکام نے تصدیق کی کہ تباہ ہونے والے ایف 15 ای طیارے میں دو پائلٹ سوار تھے جس میں سے ایک کو بحفاظت ریسکیو کر لیا گیا ہے جب کہ دوسرے کی تلاش کے لیے آپریشن جاری ہے۔رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ کو طیارے کی تباہی سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے امریکی حکام کے حوالے سے امریکی لڑاکا طیارے کے گرنے کی تصدیق کی ہے جب کہ جہاز کے عملے کے زندہ بچ جانے سے متعلق لاعلمی ظاہر کی ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز نے بھی امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر گفتگو کرتے ہوئے ایک امریکی عہدیدار نے اس واقعے کی تصدیق کی ہے، تاہم انہوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم کرنے سے گریز کیا۔
دوسری جانب امریکی محکمہ دفاع اور سینٹرل کمانڈ نے اس معاملے پر تاحال کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔ 28 فروری کو ایران پر حملوں کے بعد یہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا اور غیر معمولی واقعہ ہے۔
ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے جمعے کے روز جاری بیان میں کہا کہ اس کے جدید اور مقامی طور پر تیار کردہ فضائی دفاعی نظام نے ایران کے سرحدی علاقے میں ایک ایف 35 اسٹیلتھ لڑاکا طیارے کو مار گرایا ہے۔ کچھ میڈیا رپورٹس میں پائلٹ کی گرفتاری کا دعویٰ کیا گیا ہے تاہم اس کی تاحال تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔
ایرانی اور بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق امریکی افواج نے پائلٹ کے زندہ ہونے کے امکان کے پیشِ نظر اس کی تلاش اور ایران کی سرحدوں سے باہر نکالنے کی کوشش کی۔ نے اس آپریشن میں بلیک ہاک ہیلی کاپٹرز اور سی 130 طیارے کے ذریعے پائلٹ کی تلاش کی کوشش کی گئی جو بے نتیجہ رہی۔

Leave a Reply