تحریر: وجیہ احمد صدیقی
آبنائے ہرمز دنیا کے سب سے اہم سمندری تنگنائے میں سے ایک ہے۔ یہ خلیج فارس کو بحیرہ عمان سے جوڑتا ہے اور تیل کی عالمی تجارت کا سب سے بڑا راستہ شمار ہوتا ہے۔ روزانہ تقریباً بیس ملین بیرل خام تیل، کنڈینسیٹ اور پیٹرولیم مصنوعات اس آبنائے سے گزرتے ہیں جو سمندری تیل کی عالمی تجارت کا بیس سے پچیس فیصد حصہ بنتا ہے۔ ایشیا کی معیشتوں بالخصوص چین، جاپان، بھارت اور جنوبی کوریا کے لیے یہ تیل کی سپلائی لائن کی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر یہ آبنائے بند ہو جائے تو تیل کی عالمی قیمتیں آسمان چھو لیں گی، توانائی کا بحران پیدا ہو گا اور معاشی افراتفری پھیل جائے گی۔
طویل عرصے سے یہ تاثر غالب رہا ہے کہ آبنائے ہرمز کو صرف ایران اور اس کے پاسداران انقلاب ہی بند کر سکتے ہیں۔ ایران نے بار بار دھمکیاں دی ہیں۔ انیس سو اسی کی دہائی کی ایران عراق جنگ (ٹینکر وار) سے لے کر انیس سو انیس کے ٹینکر حملوں اور دو ہزار پچیس-چھبیس کے حالیہ تنازعے تک، پاسداران انقلاب نے تیز رفتار کشتیاں، سرنگ، میزائل اور ڈرون کے ذریعے آبنائے پر کنٹرول کا مظاہرہ کیا ہے۔ مارچ 2026 میں جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملے کیے تو پاسداران انقلاب نے اعلان کیا کہ “آبنائے ہرمز بند ہے” اور جو بھی جہاز گزرنے کی کوشش کرے گا اسے “جلا دیا جائے گا”۔ کئی ٹینکرز پر حملے ہوئے، عملہ ہلاک ہوا اور ڈیڑھ سو سے زائد جہاز آبنائے کے قریب پھنس گئے۔ ایران کا فوجی طاقت کا استعمال یقینی طور پر ایک بڑا خطرہ ہے۔
لیکن حالیہ واقعات سے ایک نئی حقیقت سامنے آئی ہے: آبنائے ہرمز کو ایران اور پاسداران انقلاب کے علاوہ انشورنس کمپنیاں بھی مؤثر طور پر بند کر سکتی ہیں۔ مارچ 2026 کے ابتدائی دنوں میں جب تنازعہ شدت اختیار کر گیا تو سمندری انشورنس کی عالمی مارکیٹ نے ایک غیر معمولی قدم اٹھایا۔ ناروے کے گارڈ، سکولڈ، برطانیہ کے نارتھ سٹینڈرڈ، لندن

پی اینڈ آئی کلب اور نیویارک کے امریکن کلب سمیت بڑے پی اینڈ آئی کلبز (جو عالمی مرچنٹ فلیٹ کے نوے فیصد سے زائد حصے کو تحفظ دیتے ہیں) نے جنگی خطرے کا تحفظ (وار رسک کور) منسوخ کر دیا۔ یہ تحفظ عام طور پر جنگ، دہشت گردی اور بحری حملوں سے ہونے والے نقصانات، جہاز کی تباہی، مشینری، کارگو اور تیسرے فریق (تھرڈ پارٹی) کی ذمہ داریوں کا احاطہ کرتا ہے۔
انشورنس کے نوٹس یکم مارچ 2026 کو جاری ہوئے اور پانچ مارچ سے خلیج فارس، ایرانی سمندر اور آبنائے ہرمز سمیت آس پاس کے پانیوں میں جنگی خطرے کا تحفظ ختم ہو گیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بحری ٹریفک میں اسی فیصد کمی آگئی، بحری جہازوں نے راستہ بدلا، چارٹر معاہدے منسوخ ہوئے اور مال بردار جہازوں کے کرائے آسمان سے باتیں کرنے لگے۔ یہ “عملی بندش” تھی جو نہ ایران نے لگائی تھی اور شاید ایران کو اس کا اندازہ بھی نہ تھا۔ حقیقی طور پر آبنائے کو ایران نے نہیں بند کیا، بلکہ انشورنس کی عدم دستیابی نے جہاز مالکان، کرائے پر لینے والوں اور فنانسرز کو روک دیا۔
یہ کیوں ہوا؟
سمندری انشورنس کی دنیا میں جنگ کا خطرہ الگ اور مہنگا ہوتا ہے۔ جہاز اور مشینری کی انشورنس، تحفظ اور معاوضہ (پی اینڈ آئی) اور کارگو انشورنس کے علاوہ جنگی خطرہ اضافی پریمیم پر ملتا ہے۔ تنازعے کی صورت میں پی اینڈ آئی کلبز دوبارہ انشورنس حاصل نہیں کر پاتے تو وہ تحفظ واپس لے لیتے ہیں۔ مارچ 2026 میں پریمیم صفر اعشاریہ دو سے صفر اعشاریہ پچیس فیصد سے بڑھ کر ایک سے پانچ فیصد تک ہو گئے۔ ایک سو ملین ڈالر والے ٹینکر کے لیے ایک سفر کا جنگی خطرے کا تحفظ پانچ ملین ڈالر تک پہنچ گیا۔ یہ رقم اتنی بڑی ہے کہ کرائے پر لینے والے اسے برداشت نہیں کر سکتے۔
اس بات کے حق میں بہت مضبوط دلائل ہیں کہ انشورنس کمپنیاں آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
سب سے پہلے، قانونی اور مالی ضروریات کا تحفظ ضروری ہے۔ پی اینڈ آئی تحفظ کےبغیر کوئی جہاز بندرگاہ میں داخل نہیں ہوسکتا، کارگو لوڈ نہیں کر سکتا اور بینک فنانسنگ نہیں دیتا۔ عالمی شپنگ انڈسٹری میں بانشورنس لازمی ہے۔ دوم، خطرے سے بچاؤ۔ انشورنس کمپنیاں دعووں سے بچنا چاہتی ہیں۔ ایک بڑا ٹینکر ڈوبنے سے نہ صرف جہاز اور کارگو کا نقصان ہوگا بلکہ خلیج فارس کی کم گہرائی میں ماحولیاتی تباہی ہو گی۔ تیل کا پھیلاؤ ساحلوں، مچھلیوں اور علاقائی معیشت کو تباہ کر دے گا۔
انشورنس ایجنٹس اور شپنگ کمپنیاں اس ماحولیاتی خطرے سے خائف ہیں جس کا درست تخمینہ لگانا مشکل ہے۔
تیسرے، تاریخی اور حالیہ مثالیں۔ بحر احمر میں حوثی حملوں کے دوران بھی جنگی خطرے کے پریمیم بڑھے تھے لیکن حوثی حملے آبنائے ہرمز جیسے اہم نہ تھے۔ 1980 کی ٹینکر وار میں بھی پریمیم بڑھے مگر مکمل منسوخی نہیں ہوئی۔ 2026 میں صورتحال مختلف تھی کیونکہ تنازعہ براہ راست تیل کی سپلائی لائن پر تھا۔ انشورنس اور شپنگ رپورٹس بتاتی ہیں کہ انشورنس واپسی کے بعد جہازوں نے خود کو روک لیا۔ چوتھی دلیل یہ ہے کہ ، معاشی حقیقت یہ ہے کہ۔ ٹینکرز کی قیمت دو سو سے تین سو ملین ڈالر ہوتی ہے۔ تین فیصد پریمیم کا مطلب سات اعشاریہ پانچ ملین ڈالر فی سفر۔ یہ اضافی لاگت تیل کی فی بیرل قیمت میں چند ڈالر کا اضافہ کر دے گی مگر شپنگ کمپنیاں اس خطرے میں نہیں پڑتیں۔
انشورنس کمپنیاں اب “جنگ کی نئی سیاسی قوت” بن چکی ہیں۔ وہ جغرافیائی سیاسی خطرات کا جائزہ لیتے ہوئے شپنگ کے راستوں کا فیصلہ کرتی ہیں۔ امریکہ نے بیس بلین ڈالر کا دوبارہ انشورنس پروگرام پیش کیا مگر یہ کافی نہ تھا۔ انشورنس مارکیٹ ایسوسی ایشن نے بعد میں وضاحت کی کہ تحفظ دستیاب ہے مگر پریمیم بہت زیادہ اور عملے کی حفاظت کا مسئلہ الگ ہے۔ نتیجہ وہی رہا: جہاز نہیں گزر رہے۔
پاکستان کے تناظر میں بھی یہ اہم ہے۔ کراچی پورٹ اور گوادر تیل کی درآمد پر انحصار کرتے ہیں۔ اگر آبنائے ہرمز بند ہوا تو تیل کی قیمتیں بڑھیں گی، مہنگائی بڑھے گی اور چین پاکستان اقتصادی راہداری کے منصوبے متاثر ہوں گے۔ ایشیا کی اسی فیصد تیل کی ضرورت خلیج فارس سے آتی ہے۔
مخالف دلائل بھی موجود ہیں۔ کچھ کہتے ہیں کہ انشورنس مارکیٹ ہمیشہ “مناسب قیمت” پر تحفظ دیتی ہے اور تاریخ میں کبھی مکمل بند نہیں کیا۔ مگر 2026 کے واقعات اسے غلط ثابت کرتے ہیں۔ جب خطرہ “زیادہ سے زیادہ شدت” والا ہو تو انشورنس بھی رک جاتی ہے۔
آخر میں، آبنائے ہرمز کی بندش اب صرف فوجی طاقت کا مسئلہ نہیں۔ انشورنس کمپنیاں، جو عالمی تجارت کی خاموش نگران ہیں، اسے تجارتی طور پر بند کر سکتی ہیں۔ یہ ایک نئی حقیقت ہے جو عالمی طاقت کے توازن کو بدل رہی ہے۔ جہاں ایران فوجی دھمکیاں دیتا ہے وہیں انشورنس کمپنیاں مالی دباؤ ڈال کر وہی نتیجہ حاصل کر لیتی ہیں۔ مستقبل میں ایسے تنازعات میں انشورنس مارکیٹ کا کردار اور اہم ہو گا۔
یہ واقعات ہمیں سکھاتے ہیں کہ آج کی دنیا میں جنگ صرف میزائلوں سے نہیں لڑی جاتی۔ پریمیم، پالیسیاں اور دوبارہ انشورنس بھی ہتھیار بن سکتے ہیں۔ آبنائے ہرمز کھلا رکھنے کے لیے نہ صرف فوجی بحری بیڑے بلکہ انشورنس مارکیٹ کو بھی مطمئن رکھنا پڑے گا۔

Leave a Reply