صدر ٹرمپ کی بے بسی،دنیاسے آبنائے ہرمز کی حفاظت کا مطالبہ

واشنگٹن ( نمائندہ خصوصی) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران جنگ میں بے بس نظر آنے لگے آبنائے ہرمز ٹرمپ کا امتحان بن گئی صدر ٹرمپ نے بے بسی کے عالم میں دنیا پر زور دیا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ جاری جنگ کے باعث متاثر ہونے والی اہم بحری گزرگاہ کو محفوظ بنانے کے لیے امریکہ کا ساتھ دیں۔ اسی دوران بغداد میں امریکی سفارت خانے اور متحدہ عرب امارات کی توانائی کی ایک بڑی تنصیب پر حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے دو ہفتے بعد بھی پورا خلیجی خطہ شدید کشیدگی کی لپیٹ میں ہے، جس کے جھٹکے عالمی معیشت تک محسوس کیے جا رہے ہیں۔یہ تنازع لبنان تک بھی پھیل چکا ہے جہاں وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیلی حملوں میں سینکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ اسرائیل ایک مرتبہ پھر ایران کی حمایت یافتہ تنظیم حزب اللہ سے برسرِپیکار ہے۔ایران کی جانب سے اہم آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز کو بند کرنے اور خلیجی توانائی تنصیبات پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تقریباً 40 فیصد اضافہ ہو گیا ہے۔ہفتہ کو اماراتی شہر فجیرہ کے اوپر سیاہ دھوئیں کے بادل اٹھتے دیکھے گئے، جہاں تیل کے ذخیرے اور برآمد کا ایک بڑا ٹرمینل واقع ہے۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایرانی فوج نے اماراتی شہریوں کو بندرگاہی علاقوں سے دور رہنے کی تنبیہ کی تھی۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق عراق میں امریکی سفارت خانہ ڈرون حملے کی زد میں آیا، جو اس جنگ کے دوران دوسری مرتبہ نشانہ بنا ہے۔ اسی طرح عراقی کردستان میں اماراتی قونصل خانے پر بھی ایک ہفتے میں دوسری بار حملہ کیا گیا صدر ٹرمپ نے اس سے قبل اعلان کیا تھا کہ امریکی بحریہ جلد ہی آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تیل بردار جہازوں کو سکیورٹی فراہم کرے گی۔ سنیچر کو انہوں نے دیگر ممالک سے بھی اس مشن میں شامل ہونے کی اپیل کی۔انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ کئی ممالک امریکہ کے ساتھ مل کر جنگی جہاز بھیجیں گے تاکہ آبنائے ہرمز کو کھلا اور محفوظ رکھا جا سکے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ چین، فرانس، جاپان، جنوبی کوریا اور برطانیہ اس اقدام میں شامل ہوں گے۔امریکی محکمہ دفاع کے مطابق امریکہ اور اسرائیل اب تک ایران میں 15 ہزار سے زائد اہداف کو نشانہ بنا چکے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق صرف ابتدائی چھ دنوں میں امریکہ کو 11.3 ارب ڈالر کا خرچ برداشت کرنا پڑا جبکہ جنگ میں 13 امریکی فوجی ہلاک ہوئے۔

خبر شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *