شوگر ملوں کا حکومت کو تیسرا خط، چینی برآمد کرنے کا مطالبہ

اسلام آباد( نمائندہ خصوصی) پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے وفاقی وزیر برائے نیشنل فوڈ سیکورٹی اینڈ ریسرچ کو مکمل ڈیٹا کے ساتھ تیسرا مراسلہ ارسال کر دیا ہے جس میں کرشنگ سیزن27-2026 سے پہلے فالتو چینی کو فوری برآمد کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ خط کے متن کے مطابق 31 جولائی، 2026 کو ملک میں 31 لاکھ میٹرک ٹن چینی کے ایف-بی-آر اور شوگر انڈسٹری کے باہمی متفقہ اسٹاکس موجود ہیں جبکہ ماہانہ اوسط کھپت 564،196 میٹرک ٹن ہے۔ اس طرح 15 نومبر کو نئے کرشنگ سیزن 27-2026 کے آغاز پر ملک میں 11 لاکھ، 97 ہزارمیٹرک ٹن بچی چینی کا بہت بڑا سرپلس ذخیرہ موجود ہو گا۔ اگلے کرشنگ سیزن میں دوبارہ گنے کی بمپر فصل ہونے کی توقع ہے جس سے پھرملکی ضرورت سے زائد 80 لاکھ میٹرک ٹن چینی کی ریکارڈ پیداوار ہو گی۔

اس وقت شوگر انڈسٹری کو چینی کے بڑے ذخائر رکھنے کے چیلنج کا سامنا ہے جبکہ اس کی طلب بہت کم ہے۔ چینی کی موجودہ قیمتیں اُس کی پیداواری لاگت سے انتہائی کم ہیں جبکہ گنے اور دیگر مداخل کی لاگت ہر سال بڑھ رہی ہے۔ چینی کے فروخت نہ ہونے والے اسٹاکس کی بدولت شوگر انڈسٹری کو بینکوں کے قرضوں اور کاشتکاروں کے بقایا جات کی ادائیگیوں میں فنڈز کی شدید کمی کا سامنا ہے۔ان اعداد و شمار کی روشنی میں حکومت سے درخواست ہے کہ فوری طور پر 6 لاکھ ، 33 ہزارمیٹرک ٹن سرپلس چینی برآمد کرنے کی اجازت دی جائے اوربقایا فالتو 5 لاکھ، 64 ہزار میٹرک ٹن اسٹاک کرشنگ سیزن شروع ہونے کے ایک مہینہ کے اندر برآمد کرنے کی اجازت دی جائے

خبر شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *