اسلام آباد( ویب ڈیسک) حوثیوں کے حملوں اور امریکی دھمکیوں نے عالمی منڈی کو ہلا دیا۔مشرقِ وسطیٰ میں ایران، امریکا اور حوثیوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت دوبارہ 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق سعودی تیل کی ترسیل، بحیرۂ احمر اور آبنائے ہرمز میں بڑھتے خطرات نے توانائی کی عالمی منڈی کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت دو ماہ بعد ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گئی ہے، جس کی بنیادی وجہ مشرقِ وسطیٰ میں تیزی سے بگڑتی ہوئی سیکیورٹی صورت حال، ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی کشیدگی اور بحیرۂ احمر میں حوثیوں کی کارروائیاں قرار دی جا رہی ہیں۔رواں سال مارچ میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر فضائی حملوں کے بعد بھی برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلیگئی تھی، جب کہ اپریل میں یہ بڑھ کر تقریباً 126 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھی
بعد ازاں جنگ بندی کی امیدوں کے باعث قیمتیں مئی کے آخر میں 100 ڈالر سے نیچے آگئیں اور جولائی کے آغاز میں تقریباً 71 ڈالر فی بیرل تک گر گئی تھیں، تاہم امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت ناکام ہونے اور نئی فوجی کشیدگی کے بعد تیل کی قیمتوں میں دوبارہ تیزی دیکھی جا رہی ہے۔برطانوی اخبار ’دی گارجین‘ کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ اس وقت دیکھنے میں آیا جب یمن کے ایران نواز حوثیوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے بحیرۂ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں اینسیلیا اور لیلہ کو میزائلوں اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ایک ٹینکر میں آگ لگ گئی۔
حوثیوں نے الزام لگایا کہ دونوں جہاز ان کی جانب سے عائد بحری ناکا بندی کی خلاف ورزی کر رہے تھے، جب کہ اس حملے کے بعد عالمی سطح پر تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات مزید بڑھ گئے۔ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز کے بعد اگر بحیرۂ احمر بھی غیر محفوظ ہو گیا تو سعودی عرب کے لیے تیل برآمد کرنے کے متبادل راستے بھی شدید خطرات سے دوچار ہو جائیں گے، جس کے اثرات پوری دنیا کی توانائی منڈی پر مرتب ہوں گے۔گزشتہ روز برینٹ خام تیل تقریباً پانچ فی صد اضافے کے بعد 95 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا تھا، جب کہ امریکی خام تیل بھی 89 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گیا تھا۔صرف جولائی کے دوران خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً 25 فی صد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جب کہ سال کے آغاز سے اب تک یہ اضافہ 50 فی صد سے زیادہ ہو چکا ہے۔۔

Leave a Reply