پاکستان ٹیکسٹائل کونسل کاوزیر اعظم سے ٹیکسٹائل برآمدات کے لیے ہنگامی اقدامات کا مطالبہ

 

اسلام آباد( نمائندہ خصوصی) پاکستان ٹیکسٹائل کونسلنے وزیر اعظم محمد شہباز شریف سے مطالبہ کیا ہے کہ ملک کی ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی صنعت کو درپیش بنیادی مسائل کے فوری حل کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جائیں تاکہ پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی صنعت دوبارہ ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے۔ پاکستان ٹیکسٹائل کونسل کے چیئرمین فواد انور کی جانب سے وزیر اعظم کو ارسال کردہ خط میں کہا گیا ہے کہ مالی سال 2025-26 کے دوران پاکستان کی ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی برآمدات صرف *0.26 فیصد* اضافے کے ساتھ *17.93 ارب امریکی ڈالر* رہیں، جبکہ جون 2026 میں برآمدات سالانہ بنیاد پر *16.71 فیصد* اور گزشتہ ماہ کے مقابلے میں *23 فیصد* کم ہو گئیںکونسل نے برآمدات میں جمود کی تین بنیادی وجوہات کی نشاندہی کی ہے

*پہلی وجہ: کاروبار کرنے کی بڑھتی ہوئی لاگت*

پی ٹی سی کے مطابق کم از کم اجرت میں اضافہ، آجر پر بڑھتے ہوئے لازمی مالی بوجھ اور صنعتی بجلی کے ٹیرف میں موجود غیر منصفانہ ساخت نے پاکستانی برآمد کنندگان کی پیداواری لاگت نمایاں طور پر بڑھا دی ہے، جس سے عالمی منڈی میں ان کی مسابقت متاثر ہو رہی ہے۔

*دوسری وجہ: ایکسپورٹ ری فنانس اسکیم پر عملدرآمد میں تاخیر*

کونسل نے وفاقی بجٹ میں اعلان کردہ توسیع شدہ ایکسپورٹ ری فنانس اسکیم کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس پر تاحال عملدرآمد نہ ہونے کے باعث برآمد کنندگان مہنگی شرح سود پر ورکنگ کیپیٹل حاصل کرنے پر مجبور ہیں، جبکہ علاقائی ممالک اپنے برآمد کنندگان کو کم لاگت پر مالی سہولتیں فراہم کر رہے ہیں۔

*تیسری وجہ: کپاس کی شدید قلت*

پی ٹی سی نے کہا کہ ملک میں کپاس کی پیداوار کم ہو کر تقریباً *55 لاکھ گانٹھیں* رہ گئی ہے، جو 2011-12 میں پیدا ہونے والی *1 کروڑ 48 لاکھ گانٹھوں* کے مقابلے میں تقریباً 70 فیصد کم ہے۔ اس صورتحال نے ٹیکسٹائل صنعت کے خام مال کی فراہمی کو شدید متاثر کیا ہے۔ پاکستان ٹیکسٹائل کونسل نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آجر کی EOBI شرح کو 2 فیصد تک لایا جائے، صنعتی بجلی کے ٹیرف کو لاگت کے مطابق درست کیا جائے، اعلان کردہ ایکسپورٹ ری فنانس اسکیم کو فوری طور پر نافذ کیا جائے اور کپاس کی پیداوار میں اضافے کے لیے قومی سطح پر جامع حکمت عملی اختیار کی جائے۔ چیئرمین پاکستان ٹیکسٹائل کونسل فواد انور نے کہا کہ پاکستان کی ٹیکسٹائل صنعت کسی خصوصی رعایت کی نہیں بلکہ عالمی سطح پر برابری کے مواقع، مسابقتی توانائی نرخ، بروقت مالی سہولتوں اور خام مال کی پائیدار فراہمی کی خواہاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ بروقت فیصلے نہ کیے گئے تو برآمدات میں جمود مزید گہرا ہو سکتا ہے، جبکہ مؤثر اقدامات سے ملک کی برآمدات اور معاشی ترقی کو نئی رفتار دی جا سکتی ہے۔

خبر شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *