اسلام آباد(نمائندہ خصوصی) پاکستان انٹرنیشنل نارتھ ساؤتھ ٹرانسپورٹ کوریڈور (آئی این ایس ٹی سی) میں شمولیت کا منصوبہ بنارہا ہے جبکہ روس نے اس تجارتی راستے کو گوادر بندرگاہ سے منسلک کرنے کی حمایت کی ہے، دونوں ممالک 2030 تک پھیلے ایک نئے شراکت داری فریم ورک کے تحت اقتصادی اور اسٹریٹجک تعاون کو مزید گہرا کرنے کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ یہ بات وفاقی وزیرِ توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے ویبینار ون میں کلیدی خطاب کے دوران کہی جس کا عنوان پاک روس دوطرفہ تعلقات بدلتے ہوئے عالمی نظام کے تناظر میں تھا۔ انہوں نے کہا کہ دوطرفہ تجارت کے نمایاں امکانات کو بروئے کار لانے اور ادائیگی کے نظام جیسے ساختی رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے دونوں ممالک نے روسی فیڈریشن اور پاکستان کے درمیان سال 2030 تک کے لیے اقتصادی تعاون کے پروگرام پر دستخط کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ سرکاری بیان کے مطابق اس خطاب کا ایک اہم مرکز علاقائی روابط تھا جس میں پاکستان نے انٹرنیشنل نارتھ ساؤتھ ٹرانسپورٹ کوریڈورمیں شامل ہونے کے اپنے عزم کا اشارہ دیا۔ آئی این ایس ٹی سی ایک 7,200 کلومیٹرملٹی ماڈل مال بردار نیٹ ورک ہے جس میں بحری، ریل اور سڑک کے راستے شامل ہیں۔
اسے بھارت، ایران، آذربائیجان، روس، وسطی ایشیا اور شمالی یورپ کے درمیان سامانِ تجارت کی نقل و حمل کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ ویبنار کے دوران اویس لغاری نے روسی نائب وزیر اعظم کے اس بیان کا خیرمقدم کیا جس میں انہوں نے آئی این ایس ٹی سی کو پاکستان کی گوادر بندرگاہ سے جوڑنے کا ذکر کیا تھا جو کہ چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو میں ایک انتہائی اہم کڑی ثابت ہوگا۔ عالمی سیاست میں جاری ساختی تبدیلیوں کا ذکر کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ سوویت دور کی باقی ماندہ بداعتمادی اب ختم ہو چکی ہے جس کے نتیجے میں یہ شراکت داری غیر دوست ملک سے ترقی کرتے ہوئے اب قابلِ اعتماد دوست کی سطح تک پہنچ گئی ہے اور یہ تعلقات تجارت، توانائی، دفاع اور ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں تک پھیل چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سفارتی رفتار کو اعلیٰ قیادت کی جانب سے آگے بڑھایا جارہا ہے جس کی واضح مثال وزیر اعظم شہباز شریف اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے درمیان حال ہی میں ہونے والی ملاقاتیں ہیں۔

Leave a Reply