اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) وفاقی آئینی عدالت کے 126 صفحات پر مشتمل رولز پبلک کردیے گئے۔
رولز کے مطابق ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ کے فیصلے سے پیدا ہونے والی اپیل بھی کم از کم دو ججز کا بینچ سنے گا، بینچ میں ججز کی رائے برابر تقسیم ہونے پر معاملہ دوسرے جج یا چیف جسٹس کے نامزد بڑے بینچ کو بھیجا جاسکے گا۔
چیف جسٹس اہمیت، پیچیدگی یا عوامی اہمیت کے پیش نظر کسی بھی مرحلے پر بڑا بینچ تشکیل دے سکتے ہیں، بڑے بینچ میں ججز کی تعداد چیف جسٹس حکم کے ذریعے مقرر کریں گے۔
سینئر ایڈووکیٹس، ایڈووکیٹس اور ایڈووکیٹس آن ریکارڈ کے الگ الگ رول برقرار رکھے جائیں گے، پاکستان بار کونسل کا انرولمنٹ سرٹیفکیٹ پیش کیے بغیر کسی وکیل کو رول پر دستخط کی اجازت نہیں ہوگی۔
پیشہ ورانہ بدعنوانی یا بدسلوکی پر چیف جسٹس اور ججز وکیل کا نام رول سے خارج کرسکتے ہیں، ایڈووکیٹ کے طور پر انرولمنٹ کے لیے کم از کم سات سال ہائی کورٹ کا ایڈووکیٹ رہنا لازم ہوگا، چیف جسٹس اور ججز علم، قابلیت اور تجربے کی بنیاد پر وکلاء کو سینئر ایڈووکیٹ نامزد کرسکیں گے۔
رولز کے مطابق سینئر ایڈووکیٹ کو دیگر وکلا پر ترجیح حاصل ہوگی، سینئر ایڈووکیٹ کیلئے انرولمنٹ فیس ایک لاکھ روپے مقرر کردی گئی۔
وفاقی آئینی عدالت میں تمام مقدمات، درخواستیں، اپیلیں اور نظرثانی درخواستیں مختلف زمروں اور ذیلی زمروں میں تقسیم ہوں گی، رجسٹرار چیف جسٹس کی منظوری سے مقدمات کی فائلنگ، جانچ، رجسٹریشن، فہرست سازی، تقسیم اور شماریاتی انتظام کا جامع شیڈول مرتب و شائع کرے گا۔

Leave a Reply