اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) — ملک بھر میں دہشت گردی کے واقعات میں تیزی آئی ہے، جن میں خیبر پختونخوا اور پنجاب کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز اور پولیس کو نشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں کو افغانستان کی سرزمین سے منسلک منظم دہشت گرد گروہوں کی کارروائی قرار دیتے ہوئے پاکستان نے واضح کیا ہے کہ قومی سلامتی اور عوام کے جان و مال کا تحفظ کسی بھی قیمت پر یقینی بنایا جائے گا۔
حالیہ چند دنوں میں پیش آنے والے اہم واقعات میں شامل ہیں:
- ضلع کرک میں فرنٹیئر کانسٹیبلری (ایف سی) پر حملہ — کرک کے علاقے بہادر خیل اور دیگر مقامات پر ایف سی کی چوکی اور ایمبولینس کو ڈرون اور دیگر ذرائع سے نشانہ بنایا گیا۔ اس حملے میں متعدد ایف سی اہلکار شہید اور زخمی ہوئے، جبکہ ایمبولینس کو آگ لگا دی گئی۔ یہ حملہ رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں ہوا، جسے انسانیت کے خلاف بزدلانہ فعل قرار دیا جا رہا ہے۔
- کوہاٹ کے شکردرہ علاقے میں پولیس پر فائرنگ — تحصیل لاچی کے ڈی ایس پی اسد محمود سمیت متعدد پولیس اہلکاروں کو گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر کے شہید کر دیا گیا۔ واقعے میں ڈی ایس پی اسد محمود، ایس آئی انار گل اور دیگر اہلکار شامل تھے، جبکہ کچھ راہگیر بھی متاثر ہوئے۔ پولیس حکام نے تصدیق کی کہ یہ حملہ دہشت گردوں کی جانب سے کیا گیا۔
- ضلع بھکر میں خودکش دھماکہ — داجل بین الصوبائی چیک پوسٹ پر خودکش حملہ آور نے دھماکہ کیا، جس کے نتیجے میں دو پولیس اہلکار کانسٹیبل فہیم عباس اور کانسٹیبل شہباز مدنی شہید ہو گئے، جبکہ ایک اہلکار زخمی ہوا۔ حملہ افطار کے وقت پیش آیا، جس سے چیک پوسٹ عارضی طور پر بند کر دی گئی۔
ان واقعات کو دیکھتے ہوئے پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ حملے افغانستان کی سرزمین کو دہشت گردوں کے لیے محفوظ ٹھکانہ بنانے کی وجہ سے ممکن ہو رہے ہیں۔ پاکستان نے بارہا مطالبہ کیا ہے کہ افغان حکام "فتنہ الخوارج” اور دیگر گروہوں کو پناہ نہ دیں، مگر اس کے برعکس پاکستان کے خلاف دراندازی اور جارحیت جاری ہے، جو ملک کی خودمختاری کے لیے سنگین چیلنج ہے۔
حکومت اور فوج کی جانب سے سخت بیان میں کہا گیا ہے کہ:
"ریاست پاکستان واضح کرنا چاہتی ہے کہ قومی سلامتی، وقار اور عوام کے جان و مال کا تحفظ ہر سیاسی وابستگی اور مفاد سے بالاتر ہے۔ اس جنگ کا جواب مکمل قومی اتحاد، عوامی حمایت اور فولادی عزم سے دیا جائے گا۔ ہماری سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے قوم کی مکمل تائید کے ساتھ دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے پرعزم ہیں۔”
مزید کہا گیا کہ سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر دشمن کے مذموم عزائم کا مقابلہ کیا جائے گا۔ پاکستان کے امن، خودمختاری اور سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ قوم متحد ہے، افواج مستعد ہیں، اور ہر قربانی کا حساب لیا جائے گا۔
حالیہ دنوں میں پاکستان نے افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر جوابی کارروائیاں بھی کی ہیں، جن میں متعدد کیمپ تباہ اور دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ یہ اقدامات پاکستان کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن ردعمل کو ظاہر کرتے ہیں۔
قوم سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ سیکیورٹی فورسز کے ساتھ مکمل تعاون کرے اور دہشت گردی کے خلاف متحد رہے۔

